اچھا نھ لگا
Poet: AMEER By: Amir Ahmad, Rawalpindiسر عام وہ تیرا حسن لٹانا اچھا نہ لگا
یوں باغ میں بن ٹھن کے آنا اچھا نہ لگا
تعریف نہ کروں تیرے حسن کی یہ ہو نہ سکا
ترچھی آنکھوں میں کاجل کا لگانا اچھا نہ لگا
اور تجھہ سا ہوتا ہے ہزاروں میں کوئی ایک حسین
ریشمی زلفوں سے تیرا چہرہ چھپانا اچھا نہ لگا
وہ نازک پن تیرا بے ہوش جوانی تھی
مخملی گھاس پہ بے جان سا جانا اچھا نہ لگا
وہ سادگی جب جھولا جھلا تیرا کسی سے
سمجھ کے ظالم سامنے بٹھانا اچھا نہ لگا
وہ ہمت تیری مجبوری کیوں بن بیٹھی
وہ تیرا ہنس کے آنسو بہانا اچھا نہ لگا
یوں تو ہر روز کئی لوگ مل کے بچھڑ جاتے ہیں
جانے امیرکیوں ان کو چھوڑ آنا اچھا نہ لگا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






