اچھا نہیں لگتا
Poet: Saima Saher By: Saima Saher, Gujranwalaسر شام لوٹ آنا ہمیں اچھا نہں لگتا
تم بلاؤ ہم نہ آئیں ہمیں اچھا نہں لگتا
جب چاہتے ہیں سب ارادے توڑ دیتے ہیں
تم سے لا تعلق رہنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم ملتے ہو تو کھو جاتی ہیں باتیں ساری
تمہارے سامنے بولنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
بہت کم لوگوں کو ہم لفظوں کا بھرم دیتے ہیں
ہر اک پہ مان کر لینا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم رتجگے کاٹو اور ہم سکوں نیندیں سوئیں
اے زندگی تیرا یہ ضابطہ ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم زندگی تنہا نہیں گزار سکتے ہو
تمہارا نم آنکھوں سے یہ کہنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تمہارے خواب کی آج ہم تمہیں تعبیر دیتے ہیں
تمہارا نارساں چہرہ ہمیں اچھا نہیں لگتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






