اچھا چلو یوں ہی سہی بے وفا ہیں ہم
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK اچھا چلو یوں ہی سہی بے وفا ہیں ہم۔۔۔
دنیا بھر کے جھوٹے پر خطا ہیں ہم۔۔۔
ہمکو نہیں معلوم تھا ہم اتنے نکمے ہیں۔۔۔
یار تیرا شکریہ تیرے مشکور با خدا ہیں ہم۔۔۔
شاید اپنے اوقات سے ہیں تجاوز کر گئے۔۔۔
شاید اسلیے نظر میں اس کی بیوفاا ہیں ہم۔۔۔
ہر سزا منظور ھے ہمیں یار کی مقرر کی۔۔۔
بس ایکبار کہہ دیں کہ نہیں دھوکا ہیں ہم۔۔
اپنے جینے کا بس وہی ایک کا رن ھے۔۔۔
گر وہ نہیں تو یار پھر بے وجہ ہیں ہم۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






