اچھی ہَوں تو پھر محبت کیوں نہیں کرتے
Poet: UA By: UA, Lahoreاچھی ہَوں تو پھر محبت کیوں نہیں کرتے
میں بَری ہوں تو عداوت کیوں نہیں کرتے
تحریک و انقلاب کے خَوگر ہو تَم اگر
پوچھتی ہَوں پھر بغاوت کیوں نہیں کرتے
کیوں اپنی چاہتوں کا دم گھوٹتے رہتے ہو
کیوں اپنے دِل پہ آپ عنایت نہیں کرتے
سب کی ضرورتوں کا اَن کو خیال ہے
بس اپنا ہی احساسِ ضرورت نہیں کرتے
رکھتے ہیں سب کی چاہتوں کو دھیان میں مگر
اپنے لئے کسی کی بھی چاہت نہیں کرتے
دم بھرتے ہیں سبھی کی محبت کا چاہتوں کا
بس ایک اپنے آپ سے اَلفت نہیں کرتے
عظمٰی عجیب طور ہے میرے رفیق کا
چاہتے ہوئے بھی ہم سے رفاقت نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






