اکیلے میری جاں جینا مشکل ہے
Poet: جہانزیب کنجاہی دمشقی By: جہانزیب کنجاہی دمشقی, baghdad,iraqہجر کی سختیاں جینا مشکل ہے
تشنگی اور بیاباں جینا مشکل ہے
یہ ناخداوں نے کہا ہم سے
جلا کر کشتیاں جینا مشکل ہے
صورت ہی نہیں ملاقات کی
فاصلے اتنے درمیاں جینا مشکل ہے
کل خواب میں ملا تھا خوبرو
تھا چہرے سے عیاں جینا مشکل
سکوں کے واسطے نہیں یہ دنیا
یہ وہ جہاں ہے جہاں جینا مشکل ہے
کوئی ہمسفر ڈھونڈ لو جہاں
اکیلے میری جاں جینا مشکل ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






