اک بار بھی سینے سے لگاتا نہیں کوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیااک بار بھی سینے سے لگاتا نہیں کوئی
اب نقش محبت کا بناتا نہیں کوئی
سو جاتے ہیں سب اوڑھ کے لمبی سی جدائی
ان ہجر کی راتوں سے جگاتا نہیں کوئی
اب موسمِ باراں کی تڑپ ہے مجھے شاید
گھر اپنے جو صحرا بھی بلاتا نہیں کوئی
جو دل کے خذینے میں مرے راز چھپے ہیں
وہ رازِ وفا ہی تو چراتا نہیں کوئی
دریا پہ کوئی پیاس کا پیکر بھی نہیں ہے
اور دل کے سمندر میں نہاتا نہیں کوئی
جس زیست کے بازار میں بیٹھی ہوں میں وشمہ
اس زیست کا یہ بوجھ اٹھاتا نہیں کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






