اک بار تو توُ بھی میرا بن
Poet: سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبرؔ جیلانی, Faisalabad, Punjab, Pakistanسو بار نہیں ۔۔۔۔۔ اِک بار صنم
اِک بار تو تُو بھی بول صنم
اک بار تو کہہ توُ میرا ہے
اِک بار تو توُ بھی میرا بن
یہ لفظ نہیں ، ہے ایک دعا
کبھی سن بھی سہی میری صدا
ہے دست ء دعا میں ٹھہرا ہوا
اب تو اور تیرا نام صنم
اب دوا کر یا دے دعا
میرے درد کو بھی ہو شفا
اب توڑ بھی دے یہ خاموشی
اب توُ بھی تو کُچھ بول ذرا
چل اتنا کہہ دے میرا ہے
توُ اور تیرا مان صنم
اک بار تو توُ بھی میرا بن
یہ ہم بھی کیا ہیں کہہ بیٹھے
یہ کیسی خواہش لے بیٹھے
یہ ہے ۔۔۔۔۔پرانی ریت صنم
جُو مانگی ، وُہ تو بھیک صنم
جُو آپ ملے، سر آنکھوں پر
اِک نظر صنم ، اِک لفظ صنم
اِک بار تو توُ بھی میرا بن
مُمکن ہے تُجھے میسر ہوں
چند اور بھی دل دیوانے سے
پر عنبرؔ سا کوئ ڈھونڈ کے لا
جو جل کر تیری مہک بنے
جو ہر پل تیری تفسیر کرے
اور توُ ہو اسکی تکمیل صنم
اک بار تو توُ بھی میرا بن
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






