اک بار تو تو بھی میرا بن
Poet: S. Sadia Amber Jilani By: S. Sadia Amber Jilani, Faisal Abadاب جینا نہیں ہے تیرے بن
اک بار تو تو بھی میرا بن
جیون یہ تیرا یہ دنیا تیری
جی بھر کے رھ جی بھر کے جی
بس اک دن میرے نام تو کر
بس اک دن تو بھی میرا بن
یہ آنسو میرے یہ رنج و غم
کبھی تو بھی سمجھ میرا یہ غم
کبھی مجھ کو لگا تو سینے سے
تو میرا نہیں کہہ" جھوٹ ہے یہ"
اک بار تو میرے دل کی سن
اک بار تو تو بھی کہہ یہ ذرا،
"اک بار تو تو بھی میرا بن"
بس اک بار تو تو بھی میرا بن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






