اک بھینی بھینی خوشبو ہر سمت چھا گئی ھے
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen , Kallar Syedanاک بھینی بھینی خوشبو ہر سمت چھا گئی ھے
شاید چمن میں آ کے وہ مسکرا گئی ھے
سوکھی ہوئی تھیں شاخیں ویران تھا قفس بھی
پھر بھی عجب سا نغمہ بلبل سنا ھئی ھے
میرے ویران گھر میں تھا اندھیرا ہی اندھیرا
وہ چپکے چپکے آ کر شمع جلا گئی ھے
اس نے جو سوئے گلشن رخ بے نقاب دیکھا
یوں لگ رہا ھے جیسے کہ بہار آ گئی ھے
وہ کس قدر حسیں ھے اسے کچھ خبر نہیں ھے
یہی سادگی ہی اس کی میرے دل کو بھا گئی ھے
کیوں آج اتنا خوش ھے تجھے کیا ملا ھے زریں
اک شوخی تبسم تیرے لب پہ آ گئی ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






