اک تیرے لئے میں نے سحر، رکھی ہوئی ہے
Poet: muhammad faizan munghiz By: muhammad faizan munghiz, jhelumاک تیرے لئے میں نے سحر، رکھی ہوئی ہے
اور تصویر تیری مد نظر، رکھی ہوئی ہے
اس بار تجھے دیکھ کہ مدہوش ہوا کون
اس شہر کے لوگوں کی خبر، رکھی ہوئی ہے
بے تاب ہے، آوارہ ہے، میری یہ نظر
جس سمت سے آو گی ادھر ، رکھی ہوئی ہے
دھڑکن دل، کیف نظر، نام تیرے کی
ابھی ہمت سر، جان جگر ، رکھی ہوئی ہے
ان عشق کی راہوں میں رکیں گے نہ کسی طور
زندگی اپنی اسی سمت سفر، رکھی ہوئی ہے
اداسی ہے، تنہائی ہے، اس ذہن میں منغض
جز تیرے اور کوئی چیز اگر، رکھی ہوئی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






