اک خط کے جواب میں
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadاک خط کے جواب میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں لکھا تھا
“سوال“
خزاں مجھ میں چاہو گے تم دیکھنا
یا کہ فصل بہار
کوئی فیصلہ ہو مگر جلد ہو تو اچھا ہے
“جواب“
ذرا سوچو کہ کون چاہتا ہے
خزاں کی ظالم ہوائیں
اس کا دامن زرد پتوں سے بھر جائیں
کون چاہتا ہے کہ اس کے آنگن میں کھلنے والے پھول
خزاں کی عذاب رتوں میں پتی پتی بکھر جائیں
یقینا کوئی نہیں چاہتا
میں تو چاہتا ہوں
کہ تمارے آنگن میں بہاریں سدا بھول کھلائیں۔
بلبلیں چہچہائیں
گلاب کے رنگ برنگے پھول
تمہارے آنچل کو مہکائیں
اگر کبھی
بہاریں اپنی انا کی خاطر
تم سے روٹھ جائیں
اور واپسی کیلئے۔۔۔ کوئی قربانی چاہیں۔
تو میرا سر لے جا کر۔۔۔ ان کے قدموں میں رکھ دینا
وہ میرا حال دیکھیں گی تو خود ہی لوٹ آئیں گی
سنو
اگر کبھی تم کو ضرورت ہو
پودوں کو سیراب کرنے کی
تو میرا لہو لےجانا
یہ تمھاری امانت ہے۔۔۔۔۔!
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







