اک دل ہے اور تماشائی بہت
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratاک دل ہے اور تماشائی بہت
مہنگی پڑی تیرے شہر سے شناسائی بہت
تیرے لیے جو ہوئی ہوں رسوا
کس در سے ملے گی اس کی پذیرائی بہت
سادہ سا دل ہے مگر اس میں ہے سمندر پنہاں
اور ان آنکھوں میں ہے تیرے لیے گہرائی بہت
نہ ہنسا کر مجھ پہ تماشائیوں کے جیسے
مار نہ ڈالے مجھے تیری گریزائی بہت
اک بار جھانک میرے من مندر میں
تیرا درپن تیری چاہت مجھ میں سمائی بہت
تو رکھے جہاں قدم وہاں اپنی پلکیں بچھا سکتی ہوں
دیکھ تیرے واسطے ہے مجھ میں مسیحائی بہت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






