اک شام میرے بھی نام کر
Poet: sarwat anmol By: sarwat anmol, sargodhaاک شام میرے بھی نام کر
محبت سے اپنی مجھے بھی ہمکنار کر
بند دریچے تو کھول دیے
روشنی کا تواستقبال کر
زلفوں کو میری بکھر کر
توآنکھوں سے اظہار کر
میں کھو جاؤں تیری آواز کے طلسم میں
کچھ اسطرح مجھ سے ہمکلام ہو
کوئ میٹھا جملا بول کر
ڈھڑکنوں کو میری بے حال کر
پھر کبھی مدھم نہ ہو
مجھے ایسا روپ عطا کر
تیری چاہت سےجو کھل اٹھے
مجھے ایسا سنگھار عطا کر
بھول جاؤں میں سب کچھ
کوئ ایسا سدباب کر
میری چاہتوں کو قبول کر
میری خواہشوں کا احترام کر
اک شام میرے بھی نام کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






