اک طرف ہے درد۔ دنیا، اک طرف رہائی ہے
اک طرف زندان۔ ہجراں، اک طرف رہائی ہے
پیاس کی شدت میں ملتا ہے اک ہی قطرہ پینے کو
پیاس کی شدت جرم ہے میرا یا پانی ہرجائی ہے
منزل کے تعاقب میں دل میرا، رہبر ڈھونڈتا پھرتا ہے
رہبر کا آخر کیا ہے بھروسہ، وہ تو پھر پرچھائی ہے
صبحو سے جو میں نکلا تھا، شام ہوئی، اندھیر ہوا،
ہاتھ ہیں خالی، ذہن پریشاں، یہ کیسی کمائی ہے
عشق و محبت روگ ہے دل کا، احسن کے غم اور بھی ہیں
پیٹ کو پالے یا دل سنبھالے، ملنی آبلہ پائی ہے