اک لمحہ مرے پہلو میں گذار تو سہی (دوبارہ)
Poet: maria ghouri By: maria ghouri, haroonabadاک لمحہ مرے پہلوں میں گذار تو سہی
تمام عمر بن تیرے رہ لؤں گی
اک تبسم محبت کی ہونٹوں پہ سجا تو سہی
تمام عمر تبسم کی پیاس میں گذار دؤں گی
مری جانب نظریں ملا کر دیکھ تو سہی
تمام عمر خود کو حجاب کی نذر کر دؤں گی
یہ جو لمحہ گذر رہا ہے سیاہ پڑ رہا ہے
اظہار محبت کر تو سہی
تمام عمر اس لمحے کو ترے لیے رنگین بنا دؤں گی
شکوے میں بھی بھلا دؤں گی
شکایتیں تم بھی بھلا دو
رنجش کی لکیروں کو ماتھے سے ہٹا دو
رفیق آج مرا بن تو سہی
تمام عمر پھر نہ کوئی رفیق بناؤں گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






