اک لڑکی دیوانی ایسی بھی ہے
Poet: Maria Riaz By: Maria.GHOURI, Harunabadمحبت کی اک کہانی ایسی بھی تھی
اک لڑکی دیوانی ایسی بھی تھی
تھی وہ انجان محبت کے تلخ بندھن سے
بدلی اک رت مستانی ایسی بھی تھی
اس کی نگاہوں کو بھا گیا حسیں اجنبی
پیار کی پہلی ملاقات مہکی ایسی بھی تھی
چپکے چپکے اس کا دل دھڑکنے لگ گی
دھڑکنوں میں ہوئی محبت روانی ایسی بھی تھی
لکھنے لگ گئی اس کے نام غزلیں نظمیں
محبت کی شاعری میں بہتی زندگانی ایسی بھی تھی
اک لڑکی دیوانی ایسی بھی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







