اک نظر
Poet: Ghayasuddin By: Bakhtiar Nasir, Lahoreیونہی ڈالی تھی اک نظر اس نے
کر دیا مجھ کو معتبر اس نے
یہ دیا میری چاہتوں کا صلہ
زندگی کر دی بے ثمر اس نے
یوں سنایا مجھے فسانہ غم
آنکھ کر دی ہے میری تر اس نے
لاکھ سمجھایا مانتا ہی نہیں
پھر بدل دی ہے رہگزر اس نے
کس طرح راستہ بدلتے ہیں
یہ بھی سمجھا دیا ہنر اس نے
یہ میرے رب کی مہربانی ہہے
وا کیا مجھ پہ اپنا در اس نے
کوئی بھی اب نشاں نہیں باقی
یوں جلایا ہے میرا گھر اس نے
شہر میں کوئ جانتا ہی نہ تھا
کر دیا مجھ کو نامور اس نے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






