اگر تم سنتے
Poet: عظمیٰ منصور By: عظمیٰ منصور, Srinagarتم اگر سنتے تو میں کہتی ، مجھے کچھ اور کہنا تھا
تم چند لمحوں کو جو ٹھہر جاتے، مجھے جی بھر کے دیکھنا تھا
اختیار جتنا تھا اُس سے زیادہ محبت کی تجھ کو
مجھے کچھ اور کرنا تھا، مجھے کچھ اور کہنا تھا
کبھی جو آنکھوں سے اشک گرے تری ہی یاد میں گرتے ہے
تم اگر گور سے دیکھو ان میں عکس تمہارا ہے
یہ میرا دل جو دڑکتا ہے، تیرے نام سے دڑکتا ہے
کبھی فرصت ملے تو سن لینا میری بر درکن تیرا ہی نام لیتی ہیں
تجھے میری باتوں پہ اعتبار نہیں ورنہ
تم اگر سنتے تو میں کہتی، مجھے کچھ اور کہنا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






