اگر وہ روٹھا نہیں
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTاگر وہ روٹھا نہیں تو پھر جدا کیوں ہے
بے سبب وہ مجھے چھوڑ کے گیا کیوں ہے
اسے مجھ سے محبت نہیں تو پھر بتاؤ یارو
وہ ہر کسی سے میرا حال پوچھتا کیوں ہے
میں تیری چاہت نہیں تو نے ہی تو کہا تھا
تیری ڈائری میں پھر میرا ہی نام لکھا کیوں ہے
بھری دنیا میں جو مجھے کر گیا تھا تنہا
کسی کا ہونے کے بعد پھر وہ تنہا کیوں ہے
دل توڑنا حال پہ میرے ہنسنا عادت تھی جسکی
آج وہ میرے گلے لگ کر رویا کیوں ہے
کیوں خاموش ہو تم کیوں بہا رہے ہو آنسو
کیا سبب ہے تمہارا حال ایسا ہوا کیوں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






