اگر چاہا میرے بعد میرے جتنا کسی نے
Poet: majassaf imran By: majassaf imran, Gujaratاگر چاہا میرے بعد میرے جتنا کسی نے میری نفیس محبت بھول جانا
دیا ہے جس طرح تنہائی کاجام تو نےمجھے یہ محبت کا نہیں اصول جانا
ہو فرست تجھے کبھی گزرتے وقت میرے شہر سے میراکام کرتے جانا
یہ دل میرا نہیں راہا تیرا ہو گیا ہے اب یہ مجھ سے کر دل وصول جانا
شاہد ہو یقین تجھے بعد مرنے کے پڑھ کر کتابیں میری اپنی محبت کا
پھر ہو گا کھڑے ہو کے رونہ مٹی کے ڈھیر پہ تیرا فضول جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






