اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود , نونٹگھماگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی نم نگاہوں سے مُجھے آخری بار ملنے آ جانا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی یادُوں سے مُجھے مرحُوم نہ کرنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی محبت کی چادر میں مُجھے بھیگو کے رکھنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو رات کی چاندنی میں اِے میرے چاند ستارہ بنے مُجھے ساتھ دیکھنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو مُجھے تم بے وفا نہ سمجھنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو میری محبت کی قسموں کو راہگاں نہ کرنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی بانہوں میں مُجھے احساس بنا کے تھام لینا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی چاہت سے میرے گھر والوں کو میری کمی کا احساس نہ دھلانا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اُس مُوت کے سمندر میں مُجھ پر فتح کر منہ نہ موڑ جانا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






