اہل دل جو بھی بات کہتے ہیں
Poet: کیف مرادآبادی By: Umair Khan, Adelaideاہل دل جو بھی بات کہتے ہیں
کوئی راز حیات کہتے ہیں
ان کے غم سے ہے جاوداں ورنہ
زیست کو بے ثبات کہتے ہیں
ہائے وہ دور عشق جب آنسو
داستان حیات کہتے ہیں
خواب غفلت میں جو گزرتا ہے
ہم تو اس دن کو رات کہتے ہیں
عشق کی اصطلاح میں غم کو
انقلاب حیات کہتے ہیں
جو بھی ہیں واقف حقیقت دل
دل کو ہی کائنات کہتے ہیں
لفظ و معنی میں آ نہیں سکتی
وہ نظر سے جو بات کہتے ہیں
مرد حق میں تو ماسوا کو بھی
پرتو حسن ذات کہتے ہیں
مدتوں غور کرنا پڑتا ہے
ان سے جب دل کی بات کہتے ہیں
کار گاہ نقوش عبرت کو
کیفؔ سب کائنات کہتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






