اہنی تنہائ مٹانے کی یوں تدبیر کریں
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanاپنی تنہائ مٹانے کی یوں تدبیر کریں
ہم پہ جو گزری اسے شعروں میں تحریر کریں
وہ جو آئیں تو کہیں لوٹ نہ جائیں برہم
دل کریں نظر انھیں پیش بھی اک تیر کریں
ایک تصویر و خط دینے میں اتنی الجھن
ہم وفا کر کے بھلا پیار کی تشہیر کریں ؟
ہم نے تو دل کو زباں کرنے میں جلدی کی ہے
دل کے اظہار میں اب آپ نہ تاخیر کریں
ہیں مسیحا تو مسیحائ میں ان کا ہو اعجاز
خاک کو چھو لیں اگر اس کو بھی اکسیر کریں
جس میں نفرت نہ ہو سب لوگ محبت ہی کریں
آؤ اک شہر وفا ایسا بھی تعمیر کریں
ایسا کچھ کیجیے اب وقت ٹھہر جائے یہیں
وصل کے لمحے بسر مانند تصویر کریں
کیا مزہ بات کا ہم کہتے رہیں وہ نہ سنیں
یا سنیں یوں کہ ہم اس بات کی تفسیر کریں
ان کے آنے کی پھر اک بار خبر ہے زاہد
دلبری جن سے نہ ہو آئیں تو دل گیر کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






