ایسادن بھی آئے گا
Poet: Dr Muhammad Shahid Shaukat By: Dr Muhammad Shahid Shaukat,جس دن کسی پہ ظلم نہ ہوگا،ایسادن بھی آئے گا
کسی کااستحصال نہ ہوگا،حق نہ چھیناجائے گا
جس دن کسی غریب کے بچے روٹی کونہ ترسیں گے
سردی میں نہ ٹھٹھریں گے اور گرمی سے نہ جھُلسیں گے
اور نہ کسی لاچارکی آنکھ سے خون کے آنسو برسیں گے
جس دن ہراک محنت کش کوحق اُسکامل جائے گا
جس دن کسی پہ ظلم نہ ہوگا،ایسادن بھی آئے گا
کسی کااستحصال نہ ہوگا،حق نہ چھیناجائے گا
جس دن نہ کوئی سُپر پاور دُنیاکودھمکائے گی
نہ ہی کسی کاخون پئے ،نہ جینے کوترسائے گی
نہ دولت کے بل بوتے پرفتح کے جشن منائے گی
نہ کوئی فرعون جہاں پراپناجال بچھائے گا
جس دن کسی پہ ظلم نہ ہوگا،ایسادن بھی آئے گا
کسی کااستحصال نہ ہوگا،حق نہ چھیناجائے گا
جس دن اس دنیاکے باسی چَین سے وقت گزاریں گے
عدل کی صبح طلوع پھرہوگی،ظلم کوجان سے ماریں گے
دنیامیں دولت کے پُجاری ،کسی کاحق نہ ماریں گے
جس دن امن وسکون کاسکّہ دنیاپہ چل جائے گا
جس دن کسی پہ ظلم نہ ہوگا،ایسادن بھی آئے گا
کسی کااستحصال نہ ہوگا،حق نہ چھیناجائے گا
عرب وعجم اوررنگ ونسل کے بُت سارے گرجائیں گے
دولت ،طاقت اورزبان کے فرق ختم ہوجائیں گے
تقویٰ ہی معیارتوہوگا، سب بھائی بن جائیں گے
اُس دن پھراسلام کاجھنڈا دُنیاپہ لہرائے گا
جس دن کسی پہ ظلم نہ ہوگا،ایسادن بھی آئے گا
شوکت ؔکویقین ہے سُن لو، ایسادِن بھی آئے گا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






