ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں ملی
Poet: Khalid Mahmood By: Khalid Mahmood, Abha_Saudi Arabiaایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں ملی
چاہا تھا جن کو ان سے چاہت نہیں ملی
ہم نے بٹھا دیا ہے جنہیں دل کے بام پر
ہم کو کبھی بھی ان سے راحت نہیں ملی
یاد آ گئے ہیں آپ کی تصویر دیکھ کر
وہ لوگ جن سے ہم کو مروت نہیں ملی
دل مانتا نہیں ہے کہ وہ بھی ہے بے وفا
شائد اسے بلانے کی فرصت نہیں ملی
سوچا یہ تھا کہ پھول کھلیں گے بہار میں
گلشن کے باغباں کو ہی مہلت نہیں ملی
غازی ہیں جو شرافت و کردار کے یہاں
میرے وطن میں ان کو حکومت نہیں ملی
خالد پکارتے تھے تم جنہیں کبھی کبھی
ان کو کبھی بھی آنے کی فرصت نہیں ملی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






