ایسی بےدردی سے فون پٹخ کرجاتےنہیں
Poet: M.Asghar Mirpuri By: M.Asghar Mirpuri, Birminghamکسی کو فون پرزیادہ دیر لٹکاتے نہیں ہیں
ایسی بےدردی سے فون پٹخ کرجاتےنہیں ہیں
زندگی میں لوگ نیکیاں کرتےرہتے ہیں
مگروہ آپ کی طرح احسان جتاتےنہیں ہیں
جو سوچ سمجھ کر ہمیں نظر انداز کرے
ہم اسے اپنےخوابوں میں بلاتے نہیں ہیں
آپ خوش نصیب ہیں جو میرا دیدار کرلیتےہیں
ورنہ ہر کسی کے سپنوں میں ہم جاتےنہیں ہیں
دیوانوں سےہم کچھ نا کچھ سیکھتےرہتےہیں
ایسی ہستیوں کو کبھی سمجھاتے نہیں ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






