ایماں کے دم سے ہی وجود ہے عالم کا
Poet: ناصر دھامسکر By: Nasir Ibrahim Dhamaskar, Ratnagiriایماں کے دم سے ہی وجود ہے عالم کا
ہے یہ ایک پوشیدہ راز اس کے دوام کا
نہ بن کوتاہ نظر لیکن حاضر باش بن
کہ ہے کرشمہ مالک کے حسن نظام کا
ہے شمار بھی دشوار نعمتوں کا اور
گماں مشکل اسکے احسان وکرم کا
مجال نہیں کہ رات میں سورج نکلے
کہاں معلوم حال بھی سارے نجوم کا
تن گیا چھت کھلے آسماں کا مخلوق پر
سایہ بنا ستون سا وہ ہر خاص و عام کا
عیاں ہے تیری قدرت ہر چیز میں ناصر
ٹٹولنا بھی ہے پیمانہ افہام وتفہیم کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






