ایک اجنبی چہرہ۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Islamabadوہی اک اجنبی چہرہ میرے خوابوں میں آتا ھے
اداسی دیکھتی ھوں جب بھی اس کی گہری آنکھوں میں
چرالیتا ہے یہ منظر میری ھر نیند کا لمحہ
اداسی اس کےچہرے کی مجھے سونے نہیں دیتی
مجھے احساس ھوتا ھے،کہ اس کی گرم سانسیں بھی
مجے سونے نہیں دیتیں،مجھے جینے نہیں دیتیں
مجھے احساس ھوتا ھے،وہی ایک اجنبی چہرہ
میرے نزدیک آکر یوں اپنی دھڑکن کی
سلاتا ھے مجھے اور دفعتا پھر لوٹ جاتا ھے
اک اجنبی چہرہ میرے خوابوں میں آتا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






