ایک اور رات گزر گئی انتظار میں جاناں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaایک اور رات گزر گئی انتظار میں جاناں
تو آیا نہیں ، اور نا ہی آیا قرار جاناں
یہ آنکھیں بہت بھیگی ہیں تیری یاد میں جاناں
مگر ُتم نے تو دیکھا ہی نہیں ان کا حال جاناں
یہ موسم ، یہ دلکش نظارے
کتنے ُاداس ہیں تیرے بغیر جاناں
مگر ُتم نے تو کبھی دیکھا ہی
نہیں اس تڑپتے دل کا حال جاناں
نہیں ہیں میرے جاگنے کا تم کو یقین
تو خود ہی پوچھ لو چاند ستاروں سے جاناں
جو دے دیا ہیں تم نے درد جدائی کا جاناں
اب اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں ہیں جاناں
اب تم خود ہی لوٹ آؤ کہ دل بہت اداس ہیں جاناں
کہیں ایسا نا ہو کہ یہ آخری پغیام بن جایئں ہمارا جاناں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






