ایک دریا وفا کا بہانے کے بعد
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاایک دریا وفا کا بہانے کے بعد
اک فسانہ نیا ہے فسانے کے بعد
اب مکمل ہی سمجھو کہانی مری
اور رکھا ہی کیا ہے سنانے کے بعد
داغ لگ جائے تو چھوڑتا ہی نہیں
پھر یہ مٹتا کہاں ہے مٹانے کے بعد
ریگِ صحرا میں درد و الم بڑھ گیا
ایک کاغذ کی ناؤ جلانے کے بعد
کیا سیاست ہے یہ آج کل چل رہی
پھر سے اٹھنا کسی کو گرانے کے بعد
مجھ کو پیارا لگے ہے مرا ہی جہاں
میرا خلوت کدہ ، آستانے کے بعد
لب پہ آتے تو ہیں زعفرانی حروف
آنکھ بھر آئے تو مسکرانے کے بعد
کس کے ہاتھوں میں وشمہ کھلونا بنی
کس نے چھوڑا ہے دل کو لگانے کے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






