ایک نظم،ٰٰ پری ہو تُم
Poet: azharm By: Azhar, Dohaپری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟
مری دادی کے قصوں سے نکل کر
پری پیکر تمہارا بن گیا تھا
حسیں چہرہ، بڑی معصوم صورت
حقیقت میں یہ دکھلاو گی کیسے؟
پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟
مرے بچپن سے لے کر آج تک میں
پرستش ہی کیے جاتا ہوں تیری
تصور کا مرے پیکر خیالی
خیالوں میں سے اب جاو گی کیسے
پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟
لگاو وہ جو بچپن سے ہوا تھا
محبت بن گیا کب، کچھ خبر ہے؟
سمجھ بھی ہے محبت کی تمہیں کیا
پتہ بھی ہو تو سمجھاو گی کیسے
پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟
کبھی آٴے نہ کوی تُم کو لینے
پری زادوں سے نفرت سی ہے مجھ کو
پرستاں سے کبھی پیغام آیا
مری خاطر وہ جھٹلاو گی کیسے
پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟
محبت، جان آدم ذاد کی ہو
پری پہ ڈال بھی دوں جال دل کا
پتہ کیسے چلے گا حال دل کا
محبت ہو بھی جاٴے گر تمہیں تو
یہ بتلاو کہ فرماو گی کیسے
پری ہو تُم، سمجھ پاو گی کیسے؟
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






