ایک وہ کہ مال و دل کے امیر یوئے
Poet: kashi By: WAQAS KASHI, RAWALPINDIایک وہ کہ مال و دل کے امیر یوئے
اور ہم ہیں کہ بے دام اور حقیر ہوئے
ان کی نگری سے جو بھی گزرے تھے
سنتے ہیں کہ سبھی اسیر ہوئے
محبت زندہ رہتی ہے ہمیشہ
تبھی تو تاج محل تعمیر ہوئے
سوچ کر یہ کھیل کھیلنا ہو گا
دنیا والے سخت منکر نکیر ہوئے
دونوں مل بیٹھیں گے تو مزہ آئے گا
آج ساقی اور واعظ بغلگیر ہوئے
جینا دوبر ہے مفلسوں کا اب
اپنے راہبر بے حسی کی تصویر ہوئے
وہ ایسی لیلیٰ ہے کہ جس کے ہجر میں کاشی
ہم پہلے رانجھا بنے پھر ہیر ہوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






