ایک ہیجان نہ ہو جاءے کہیں
Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Rasul Tahir, Islamabad ایک ہیجان نہ ہو جاءے کہیں
درد دل عام نہ ہو جاءے کہی
ڈور سانسوں کی اٹکتی سی ہے
وصل دو گام نہ ہو جاءے کہیں
شکوہ ہم سے کہ وفا شعار نہیں
ایسی دشنام نہ ہو جاءے کہیں
ہوک اٹھتی ہے دبا لیتا ہوں
عشق بدنام نہ ہو جاءے کہیں
بیٹھتا ہوں میں پس پشت رقیب
ان پہ الزام نہ ہو جاءے کہیں
دل میں پلتی ہے تمنا طاہر!
تشت از بام نہ ہو جاءے کہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






