اے باد صبا۔۔۔۔۔۔
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMاے باد صبا مجھے اتنا تو بتا
میرے یار کا کچھ حال سنا
کیا تو اس سے ٹکرائی تھی
کیا اس نے اپنی محبت کی
داستاں تجھے سنائی تھی
اس کی درد بھری کہانی سن
کیا تیری آنکھ بھر آئی تھی
اب مجھے اور نا تڑپا
اے باد صبا مجھے اتنا تو بتا
کیا میری جدائی میں آج بھی
اسی طرح ہاہیں بھرتی ہے
مجھے بھول چکی ہے
کہ آج بھی یاد کرتی ہے
کیامیری ندا اس تک جاتی ہے
یا راستے سے پلٹ آتی ہے
اب اور نا تجسس بڑھا
اے باد صبا مجھے اتنا تو
میرے یار کا کچھ حال سنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






