اے جانِ ایمان
Poet: ایمان شہزاد By: ایمان شہزاد, Islamabadاے متاعِ دل ! افزائے جاں
نازِ جاناں ! جانِ ایماںؔ
یوں کیوں مجھے ستاتے ہو تم؟
پھر بعد ظلمت کے, حرفِ دعا بن جاتے ہو تم
تمہاری یہ نشیلی آنکھیں
کرنِ آفتاب سے جب ٹکراتی ہیں
میری غزلیں مکمل ہو جاتی ہیں
سنتی ہیں جب کلیاں, ہولے سے شرماتی ہیں
اوّل تمہارا قاتل لہجہ دوسرا یہ اندازِ گفتگو
عمر بھر رہوں سامعہ تمہاری اور نہیں میری کوئی آرزو
میں سندیس ہوا کو سنا کر
بھیجوں جب بھی تمہاری نذر...ایسا کرنا
اس ہوا سے خود کو ٹکرا کر
ذرا سا مسکرا دینا, ذرا سا گنگنا دینا
اے دلرباب ! یہ دم ہوئے پانی مجھکو کافی نہیں ہے
آبِ حیات ہے تو پلا ورنہ دوسرا کوئی پانی پانی نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






