اے جانیوالے تیری وجہ سے ہمارا دل اضطراب میں ہے
Poet: ریحان مُعتبرؔ By: Rehan Singapuri, Karachiاے جانیوالے تیری وجہ سے ہمارا دل اضطراب میں ہے
ہمارے ہمدم بھی کہہ رہے ہیں کہ بہتری اجتناب میں ہے
تھا چاند جیسا تمھارا چہرہ، تھا کتنا پاکیزہ تیرا لہجہ
کہ جب مِلے تھے وہ ایک لمحہ، کیوں آج تک میرے خواب میں ہے
وہ بند ہونٹوں میں ہنسنا تیرا، وہ دیکھ کر یوں سمٹنا تیرا
وہ نیچی نظریں سنبھل کے چلنا کہ جیسے ناؤ سَراب میں ہے
یقیں نہ تھا جب میری وفا پہ، تو لوٹ کر کیوں دوبارہ آئے
یا جانچنا تھا ہمارے دل کوکہ تیرے بن کس عذاب میں ہے
بنا کے رکھا تھا خود کو پتھر، نہیں تو مر جاتے ہم بکھر کر
ُجدا دوبارہ سے ہوکے دِلبر یوں جینا پھر کس کی تاب میں ہے
تم آئے کرنے تھے ہم کو ویراں، ہمارے اخلاق سے ہو حیراں ؟؟
ضیاء تمھاری ہی تھی کہ اپنا شمار اب آفتاب میں ہے
نشانیاں ُتو نے جو تھیں بخشی، وہ اب تلک ہے سنبھال رکھی
جو معتبرؔ کو دیا تھا تُو نے، وہ پھول اب تک کتاب میں ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






