اے جانے جا تیرے لب پے شکوہ کیوں آ گیا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaراستے کی طرف دیکھا ہی نہیں
تیرے قدموں کے نشان پے چلتی رہی
تنہا ندیاں کنارے بیٹھ کر
خود میں لمحہ پے لمحہ سوچتی رہی
میں ساتھ ہی تو تھی تیرے مگر
دوری کی اک دیوار کو میں توڑتی رہی
اے جانے جا تیرے لب پے شکوہ کیوں آ گیا
جبکہ تیرے کہے بغیر میں تجھے اپنا آپ سوپتی رہی
کیا ڈھونڈ رہے ہو میری تحریروں میں تم لکی
میں تو اپنے نام کے ساتھ بس تیرا نام جوڑتی رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






