اے میرے ہمنشیں چل کہیں اور چل
Poet: By: Jalees, Karachiاے میرے ہمنشیں چل کہیں اور چل
اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں
بات ہوتی گلوں تک تو سہ لیتے ہم
اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
دی صدا دور پر اور کبھی طور پر
کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیں
ٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدہ
صاف کہہ دو کہ ملنا گوارہ نہیں
گلستاں کو لہو کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے یہ اہل چمن
یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں
ظالمو اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو
دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے
وہ یقیناً سنے گا صدائیں میری
کیا تمہاراخدا ہے ہمارا نہیں
آج آئے ہو تم کل چلے جاؤ گے
یہ محبت کو اپنی گوارا نہیں
عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو
دو گھڑی کا سہارا سہار نہیں
اپنی ذلفوں کو رخ سے ہٹا لیجے
میرا ذوق نظر آزما لیجے
گھر سے نکلا ہوں آج یہ سوچ کر
یا تو نظریں نہیں یا نظارا نہیں
اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چل
اس جہاں میں اب اپنا گزارا نہیں
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






