اے پگلی۔۔۔!
Poet: UA By: UA, Lahoreاے پگلی۔۔۔۔۔!
سن میری بات
کہاں آ بسی ہے تو
یہ دل والوں کی بستی نہیں
تو کسے تلاش کرتی ہے
کس کا دم بھرتی ہے
یہاں محبت ملتی نہیں
بِکتی ہے
یہاں سچے جذبوں کی
کوئی بھی قدر نہیں
یہاں تیرے جذبات کی
کوئی کسی کو خبر نہیں
اے پگلی۔۔۔۔۔!
سن میری بات
کہاں آ بسی ہے تو
یہ دل والوں کی بستی نہیں
تو کسے تلاش کرتی ہے
کس کا دم بھرتی ہے
کہاں آ بسی ہے تو
یہ دل والوں کی بستی نہیں
کیوں اپنا آپ گنواتی ہے
پتھر سے سر ٹکراتی ہے
یاں تیرتا کوئی ہمسفر نہیں
یہاں تیرا کوئی نگر نہیں
تو کس کی آس پہ بیٹھی ہے
تو کیوں اداس بیٹھی ہے
تو جسے زندگی کہتی ہے
وہ تیری زندگی نہیں
اس کی ہر ایک بات کو
اس کی ہر اک یاد کو
دل سے اس کی ذات کو
بھول جانا چاہئے
اس کی ہر اک بات کو
اسی ہر اک یاد کو اور
اس کی ذات کو
تو کیونکر جینا کہتی ہے
یہ جیت نہیں یہ مات ہے
اسے کھونا تیری جیت ہے
اسے پانا تیری مات ہے
جاں سے گزر جانا چاہئیے
پگلی ! تجھے مر جانا چاہئیے
یہ موت نہیں حیات ہے
اس دنیا سے دل لگا کے
دل سے پوچھ کیا پایا ہے
اپنا آپ گنوایا تو نے
یوں جیون بِتایا ہے
تو نے دیکھا کہہ یہ دنیا
مائع ہے بس مائع ہے
چھوڑ دے اب اس بات کو
بس تھام لے سچی ذات کو
پگلی وہ جس تنہا ذات کا
سب عالم پہ سایا ہے
اے پگلی۔۔۔۔۔!
سن میری بات
کہاں آ بسی ہے تو
یہ دل والوں کی بستی نہیں
تو کسے تلاش کرتی ہے
کس کا دم بھرتی ہے
پھر دیکھے گی
پھر سمجھے گی
تو جان لے گی
تو مان لے گی
کہ تو نے جو کچھ کھویا ہے
وہ کھو کہ کیا کچھ پایا ہے
دریائے محبت کھویا ہے
اور عشق سمندر پایا ہے
اے پگلی۔۔۔۔۔!
سن میری بات
کہاں آ بسی ہے تو
یہ دل والوں کی بستی نہیں
تو کسے تلاش کرتی ہے
کس کا دم بھرتی ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






