اے کاش
Poet: Waqas Ashraf By: Waqas Ashraf, Lahoreاک دن اس نے پوچھا
مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو وقاص
میں نے کہا
جاننا چاہتی ہو
بولی ہاں
میں نے کہا لو سنو پھر
اس جہاں کی حسیں وادیوں سے بڑھ کر
آسمان کی انتہا
بلندیوں سے بھی زیادہ
زمین کی وسعت و محدود
سے بڑھ کر
سمندر میں پانی کے
قطروں سے بھی زیادہ
محبت ہے ہمیں تم سے
بولی بس اتنی سی
میں نے کہا لو اور سنو
میرے کہے ہر لفظ
ہر بات سے بھی زیادہ
میری جان حتیٰ کہ
اپنی ذات سے بھی زیادہ
اس قدر محبت ہے ہمیں تم سے
یہ سب سن کر چند لمحے خاموش رہی
پھر روتے ہوئے پیار سے بولی
کاش
میں یہ چاہت سمیٹ سکتی
کاش
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






