دھیرے دھیرے قریب آنے لگے سب ہی آزاد پھرتے ہیں
یہ کیسی آزادی ہے آپس میں لڑتے بھڑتے ہیں
لڑکیاں نادان ہوتی ہیں ، وقت کا یہ کہنا ہے
سب کو پیار محبت سے اور مل جل کے رہنا ہے
محبت کا محل کیسے کھڑا ہو کس سے پوچھیں کہ
اپنے ذہن سے سوچیں گے اور دل سے پوچھیں گے
مجھے سب سے محبت ہے ایک چہرہ صاف نظر آتا ہے
یوں تو سب ہی اچھے ہیں دل کو بس وہ ہی بھاتا ہے
عام سی لڑکی فقط ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے
خاص بن جائے تو چاند سا مکھڑا ہے