بات بے بات روٹھتے کیوں ہیں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالبات بے بات روٹھتے کیوں ہیں
روٹھ جائیں تو بولتے کیوں ہیں
کیوں بھلا دیکھتے ہیں جِس تِس کو
غور کرتے ہیں، گُھورتے کیوں ہیں
غیر سُنتے ہی میرا نوحۂ دِل
داد دیتے ہیں، جھومتے کیوں ہیں
میں ہمیشہ غلط ہی کرتا ہوں
جانتے ہیں تو ٹوکتے کیوں ہیں
بے سبب اور بِلا دلیل مجھے
چاہتے ہیں تو چاہتے کیوں ہیں
میں خفا ہو کے جانے والا تھا
کیوں بلاتے ہیں، روکتے کیوں ہیں؟
جانیے کیوں ہم ایک دُوجے کو
یاد کرتے ہیں، سوچتے کیوں ہیں
اس پہ آخر بھلا جواز کیا دیں
ہم ترے حق میں بولتے کیوں ہیں
تجھ سے بچھڑ ے یہ تیرے دیوانے
ان کو مرنا تھا جی رہے کیوں ہیں
یہ ہمیں بھی نہیں پتا سب پر
کیوں بھڑکتے ہیں چیختے کیوں ہیں
جانتے ہیں بہل نہ پائیں گے
اپنا ماضی کریدتے کیوں ہیں
انتہا پر جدائی لازم ہے
پھر وفا کے مطالبے کیوں ہیں
وہ دِل و جان میں کہیں بھی نہیں
پھر بھی اندر ٹٹولتے کیوں ہیں
چین کی نیند سونے والے جنیدؔ
میری صحبت میں جاگتے کیوں ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






