بات لگن کی
Poet: Akram Saqib By: Akram Saqib, sahiwalبات لگن کی پیا ملن کی
چاند کی تاروں کی نیل گگن کی
بات لگن کی پیا ملن کی
تڑپتی نگاہیں ترستی بانہیں
مدت سے یہ جڑے من آنگن کی
بات لگن کی پیا ملن کی
چاند کی تاروں کی نیل گگن کی
تم تھے ہمارے من کے دوارے
بستی تھی بستی ہنستے نین کی
بات لگن کی پیا ملن کی
چاند کی تاروں کی نیل گگن کی
چاندنی راتوں میں رت ہے اماوس
ساگر میں اکھیوں کے جھلکتے گہن کی
بات لگن کی پیا ملن کی
چاند کی تاروں کی نیل گگن کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






