بادل پاگل پاگل سا
Poet: Sadaf Ghori By: Sadaf Ghori, Quettaمیں اک خشک جریرہ تھی
گالوں پہ زردی بکھری تھی
آنکھیں دھندلی دھندلی تھی
میرے سوکھے ہونٹوں سے ہر دم پیاس ٹپکتی تھی
چاندی جیسا رنگ بھی میرا زنگ آلودہ لگتا تھا
میرے چاروں اَور سمندر تھا ، میں پیاسی تھی
میرا من بس اک قلندر تھا ، میں پیاسی تھی
میرا دکھ بھی میرے اندر میرے اندر تھا، میں پیاسی تھی
میرا سونا دل کا مندر تھا، میں پیاسی تھی
اک تشنہ لبی اک تیرہ شبی
سائے کی طرح میرے ساتھ رہے
تنہا بھی مجھے چھوڑا نہ کبھی
اے تیرہ شبی آ دکھ ذرا
اے تشنہ لبی آ دیکھ ذرا
میرا بادل مجھ تک آ پہنچا
مجھے برسوں سے تھا ڈھونڈ رہا
میں بوند بوند کو ترسی ہوں
میں جانتی تھی وہ آیا تو
میرے من کو روشن کردے گا
میرے تن میں خوشبو بھردے گا
میرا تن من جل تھل کردے گا
یہ بادل پاگل پاگل سا
مجھے پاگل پاگل کردے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






