بارش میں بھیگ جاؤ کہ ساون اداس ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillآنکھوں میں آ سماؤ کہ ساون اداس ہے
مکھڑا ذرا دکھاؤ کہ ساون اداس ہے
کہتے ہیں تیری جنبش مژگاں کو زندگی
پلکیں ذرا اٹھاؤ کہ ساون اداس ہے
موسم کی ساری دلکشی ہے تیرے ناز سے
بارش میں بھیگ جاؤ کہ ساون اداس ہے
ہیں دسترس میں تیری یہ ملہار کی تانیں
کنگن کو چھنچھناؤ کہ ساون اداس ہے
مخمور ہے رت ساری مگر بے کلی سی ہے
ایسے میں چلے آؤ کہ ساون اداس ہے
ہیں انکے انتظار میں خاموش بدلیاں
زلفیں ذرا لہراؤ کہ ساون اداس ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






