باندھ کر سر پہ کفن میرے نمی رہتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتیری نظروں میں فقط خار سجی رہتی ہے
برگ گل بن کے نہ تو بن کہ بنی رہتی ہے
جب بھی خطرہ ہوا لاحق تری سیماؤں کو
باندھ کر سر پہ کفن میرےنمی رہتی ہے
گزرے کوچے سے ترے آج جو انجانے میں
لے کے تن من میں اگن شعلہ لگی رہتی ہے
اس کے جیسا تو کوئی چاہنے والا ہی نہیں
کر کے پابند جو آزاد کجی رہتی ہے
کیسے برداشت کروں میں کہ محبت میں مری
تپشِ دل مجھے ناچار دکھی رہتی ہے
مجھ کو خود اپنی تباہی کا سبب یاد نہیں
وحشتِ دل سرِ بازار لگی رہتی ہے
دل وہ ذرہ ہے جسے شہر طلب یاد نہیں
گرد سی باقی ہے اب ذہن رٹی رہتی ہے
کینوس چاروں طرف پھیلا ہوا ہے وشمہ
پر نہیں ذہن جو تصویر بنی رہتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






