باوری
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryسکهیاں! میری
روپ میرا انمول پائیں
میں لاج سے سمٹی جاؤں
پیار میں تیرے رنگی جاؤں
مان سے سہاگن کہلاؤں
کنگنا، چوڑا کهنکاؤں
آنگن تیرا مہکاؤں
بسنت بہار بن جاؤں
تو کہے تو گھٹا ساون برس جاؤں
ناز نخرے تیرے اٹهاؤں
تیرے رنگ میں ہی رنگ جاؤں
کل جگ کو یہ بتاؤں
پیا، پیا میں چلاؤں
مور مانند پنکه پهیلاؤ
سانورے کی سانوری بن جاؤں
پروا مانند اڑ جاؤں
ساگر مانند بہہ جاؤں
تیری باہوں میں سمٹ جاؤں
پیا باوری میں کہلاؤں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






