باپ
Poet: Mobeen By: Mobeen, Islamabadباپ باپ ہوتا ہے
کوئی اور بنتا نہیں
محبت کا اس سے بڑھ کر
کوئی اور رشتہ نہیں
میری ہر خواہش کو پورا کیا
میری کسی ضد کو کبھی روکا نہیں
اب ضد کروں کس سے
کوئی میرے باپ جیسا نہیں
مجھ کو پالا بڑے ناز سے
مجھ کو کبھی رونے نہیں دیا
اب میں رؤں اگر
تو کوئی چپ کراتا نہیں
اک سایہ تھا سر پہ
اک حوصلہ تھا کمر پہ
جب سے یہ بادل ھٹا
دھوپ میں چلا جاتا نہیں
باپ باپ ہوتا ہے
کوئی اور بنتا نہیں
محبت کا اس سے بڑھ کر
کوئی اور رشتہ نہیں
میں جاگتا اگر وہ سوتے نہیں
میرے کس دکھ پر وہ روتے نہیں
ان کی دعاؤں سے دکھ دور ہو جاتے
اب خدا بھی میری دعا سنتا نہیں
باپ باپ ہوتا ہے
کوئی اور بنتا نہیں
محبت کا اس سے بڑھ کر
کوئی اور رشتہ نہیں
اک خوشبو آتی تھی گھر سے
مہکتا تھا گھر باتوں سے
جب سے گئے وہ یہاں سے
ایسی خوشبو ایسا عطر کہیں ملتا نہیں
باپ باپ ہوتا ہے
کوئی اور بنتا نہیں
محبت کا اس سے بڑھ کر
کوئی اور رشتہ نہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو








