بختہ نہ تھا مکان
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiپختہ نہ تھا مکان آڑا لے گئی ہوا
ہے چھت نہ سائبان اڑا لے گئی ہوا
اولے پڑے تو تیز تھا طوفان دوستو
اب لٹ گیا کسان اڑا لے گئی ہوا
محنت بہت کی ہے بچا کچھ نہیں ہے اب
میرا تو باغبان اڑا لے گئی ہوا
حالات بدل گئے تھے خسارہ ہی ہو گیا
اونچی اڑی اڑان اڑا لے گئی ہوا
کردار وہ نہیں رہے ہو ختم سب گئے
پھولوں کی داستان اڑا لے گئی ہوا
کیوں اعتبار کیا ہے یہی سوچتا ہوں میں
رکھا نہیں ہے دھیان اڑا گئی ہوا
شہزاد میرے اپنوں کو مٹی ہی کھا گئی
سب میرے مہربان اڑا لے گئی ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






