بدلی رت
Poet: Uzair Ehsan By: Uzma Ahmad, Lahoreانہیں سیڑھیوں سے گزرا تھا میں ایک دن
تو اک مہ جبیں اپنا آنچل سمیٹے
خیالوں کی کشتی میں محو سفر تھی
اسے کیا خبر تھی
کہ کن چاہتوں سے بھرے دل وہاں پر اسے دیکھنے کو کھڑے تھے
مگر وہ
مگر وہ زمان و مکان کی سبھی بندشوں سے آزاد ہو کر
کسی بیتے لمحے کی آواز سننے وہاں رک گئی تھی
پرندے درختوں پر بیٹھے اسی کے ترانے سناتے
ادھر سے ادھر جب کبھی اڑ کے جاتے تو گویا
اسی کا مسرت بھرا نام لیکر اڑے ہوں
ہوا جب چلے تو اسی کی اجازت، اسی کے تبسم سے مہمیز ہو کر چلے
اور دلوں کو عجب کیفیت اور تمنا سے بھر دے
مگر آج گزرا ہوں میں جب یہاں سے
تو اب تو بہت کچھ بدل سا چکا ہے
نہ میں ہوں نہ وہ ہے نہ ہی وہ پرندے نہ ہی وہ سماں ہے
نہ جانے میری کور بصری ہے یہ
یا زمانے کی بدلی رتوں کا نشاں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







